کہیں تو جاؤں جہاں کوئی رب نہیں ملتا
میری جبین کو آرام اب نہیں ملتا

تُو میری آنکھ کا دُکھ کیسے جان سکتا ہے؟
سُنا ہے تجھکو تو ڈھونڈے سے رب نہیں ملتا

تُو میری ذات کی تکمیل کرنا چاہتا ہے
مجھے تو درد بھی حسبِ طلب نہیں ملتا

تیری کہانی کا کردار بن کے جیتا ہوں
کہ اور جینے کا کوئی سبب نہیں ملتا

زمین زاد ہوں، میری یہی حقیقت ہے
میرا ستاروں سے نام و نسب نہیں ملتا

میرے زوال میں جتنے ہیں نام اپنے ہیں
کسی حریف کا کوئی غضب نہیں ملتا

ضمیر چاند کی چاہت فضول ہوتی ہے
یہ عکس جھیل کو ہر ایک شب نہیں ملتا
کاش کبھی میری یاد آ جائے
ایسی کوئی شام آ جائے
میرے دوست کو میری یاد آ جائے
کیا وجہ ھے جو بھلا بیھٹے ھو
کوئی تو پیام آ جا ئے
یوں تو عادت سی بن گئ تھی
روز تم سے گفتگوں کی
دنیا کے فریب سے بچا کوئی نہیں
منزل سامنے پر راستہ کوئی نہیں
محبت ملی بہت ملی اچھی لگئ
میں تو اس کی تھی پر وہ میرا نہیں
کس قدر بچ کر چلی دنیا سے میں
وہ ملا توں پھر بچ نہ سکی میں
محبت سے ہار ھوئی زندگی کی دوڑ میں
اک شمع جل رہی ھے زندگی چل رہی ھے
تاروں بھرا آسماں۔۔۔محبّت
جذبات کا بحرِ بے کراں ۔۔۔ہم

٭

یہ ترے جسم کی مہکار تھی یا پھوُلوں کی
میں ترے پاس سے یا صحنِ چمن سے گُزرا

٭

تم دِئے ہو جو لرزتے ہو صبا کے ڈر سے
ہم ستارے ہیں جو طوفاں سے گُزر جاتے ہیں

٭

میری یادوں کے افق پر آپ کے وعدوں کے چاند
اس قدر چمکے نہیں ہیں جس قدر گہنائے ہیں

٭

مجھے قسم ہے مری شانِ آدمیّت کی
فریب دے نہ سکوں گا فریب کھائے تو ہیں
میں اور میرا شہر محبت

میں اور میرا شہر محبت
تاریکی کی چادراوڑھے
روشنی کی آہٹ پر کان لگائے کب سے بیٹھے ہیں
گھوڑوں کی ٹاپوں کو سُنتے رہتے ہیں
حد سماعت سے آگے جانے والی آوازوں کے ریشم سے
اپنی ردائے سیاہ پہ تارے کاڑھتے رہتے ہیں
انگشتانے اِک اِک کر کے چھلنی ہونے کو آئے
اب باری انگشتِ شہادت کی آنے والی ہے
صبح سے پہلے وہ کٹنے سے بچ جائے تو
میں اور میرا شہر محبت

میں اور میرا شہر محبت
تاریکی کی چادراوڑھے
روشنی کی آہٹ پر کان لگائے کب سے بیٹھے ہیں
گھوڑوں کی ٹاپوں کو سُنتے رہتے ہیں
حد سماعت سے آگے جانے والی آوازوں کے ریشم سے
اپنی ردائے سیاہ پہ تارے کاڑھتے رہتے ہیں
انگشتانے اِک اِک کر کے چھلنی ہونے کو آئے
اب باری انگشتِ شہادت کی آنے والی ہے
صبح سے پہلے وہ کٹنے سے بچ جائے تو
میں کیا ہوں بس اک ملال ء ماضی
اُس شخص کو حال چاہئے تھا
Shaam Hai Kitni Be-Tapaak, Sheher Hai Kitna Sehem Naak !
Ham Nafso! Kahan Ho Tum, Janay Ye Sab Kidher Gaye

شام ہے کتنی بے تپاک، شہر ہے کتنا سہم ناک
ہم نفسو! کہاں ہوں تم، جانے یہ سب کدھر گئے
غم ھے یا خوشی ھے تو
میری زندگی ھے تو

آفتوں کے دور میں
چین کی گھڑی ھے تو

میری رات کا چراغ
میری نیند بھی ھے تو

میں خزاں کی شام ھوں
رُت بہار کی ھے تو

دوستوں کے درمیاں
وجہء دوستی ھے تو

میری ساری عمر میں
ایک ہی کمی ھے تو

میں تو وہ نہیں رہا
ہاں مگر وہی ھے تو

ناصر اس دیار میں
کتنا اجنبی ھے تو
دل میں ایک لہر سی اُٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

شور برپا ہے خانۂ دِل میں
کوئی دیوار سی گِری ہے ابھی

کچھ تو نازُک مِزاج ہیں ہم بھی
اور یہ چوٹ بھی نئی ہے ابھی

بھری دُنیا میں دِل نہیں لگتا
جانے کِس چیز کی کمی ہے ابھی

شہر کی بے چراغ گلیوں میں
زندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی

تم تو یارو! ابھی سے اُٹھ بیٹھے
شہر میں رات جاگتی ہے ابھی

وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
*اک تازہ حکایت ہے
سن لو تو عنایت ہے…

اک شخص کو دیکھا تھا
تاروں کی طرح ہم نے
اک شخص کو چاہا تھا
اپنوں کی طرح ہم نے
اک شخص کو سمجھا تھا
پھولوں کی طرح ہم نے
وہ شخص قیامت تھا
کیا اس کی کریں باتیں
دن اس کے لئے پیدا
اور اس کی ہی تھی راتیں
کب ملتا کسی سے تھا
ہم سے تھی ملاقاتیں
رنگ اس کا شہابی تھا
زلفوں میں تھی مہکاریں
آکھیں تھی کے جادو تھا
پلکیں تھی کے تلواریں
دشمن بھی اگر دیکھے سو جان سے دل ہارے
کچھ تم سے وہ ملتا تھا
باتوں میں شباہت تھی
ہاں تم سا ہی لگتا تھا
شوخی میں شرارت میں
لگتا بھی تم ہی سا تھا
دستور محبّت میں
وہ شخص ہمیں اک دن
اپنوں کی طرح بھولا
تاروں کی طرح ڈوبا
پھولوں کی طرح ٹوٹا
پھر ہاتھ نہ آیا وہ
ہم نے بہت ڈھونڈ ا
تم کس لئے چونکے ہو
تم کس لئے چونکے ہو
کب ذکر تمہارا ہے
کب تم سے تقاضا ہے
کب تم سے شکایت ہے
اک تازہ حکایت ہے
سن لو تو عنایت ہے
اک شخص کو دیکھا تھا
تاروں کی طرح ہم نے
اک شخص کو چاہا تھا
اپنوں کی طرح ہم نے
اک تازہ حکایت ہے
سن لو تو عنایت ہے

پروین شاکر
اس سے اک بار تو روٹھوں میں اسی کی مانند
اور وہ میری طرح مجھ کو منانے آئے
.
Us se ik baar to roothon mein usi ki maanind
Or wo meri trah mujh ko manany aaey
اب اس کے بعد ترا اور کیا ارادہ ہے
کہ میرا صبر ترے جبر سے زیادہ ہے
.
Ab is k bad tera or kia erada hae,,
K mera sabr tery jabr se ziada hae
کبھی یوں بھی تو ہو بازی پلٹ جائے اے کاش ساری
اسے یاد ستائے میری اور میں مزے میں رہوں
.
Kabhi yoon bhi to ho bazi palat jaey aey kaash saari
Usey yaad sataey meri or mein mazey mein rahon

٠
قبضہ ناحق
نہ کیجیے خود پر
آپ اپنے نہیں
ھمارے ھیں…!!
.
Qabza na haq na kijiey khud per
غم ھے یا خوشی ھے تو
میری زندگی ھے تو

آفتوں کے دور میں
چین کی گھڑی ھے تو

میری رات کا چراغ
میری نیند بھی ھے تو

میں خزاں کی شام ھوں
رُت بہار کی ھے تو

دوستوں کے درمیاں
وجہء دوستی ھے تو

میری ساری عمر میں
ایک ہی کمی ھے تو

میں تو وہ نہیں رہا
ہاں مگر وہی ھے تو

ناصر اس دیار میں
کتنا اجنبی ھے تو
ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے
شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے ! !
یوں تو ہر رات کی قسمت میں ہے سحر لیکن
ہاں مگر ہجر کی اک رات ضروری تو نہیں
ہر بار یہی سوچا
ہر باز قسم کھائی
اس بار نہ روئیں گے
دامن نہ بھگوئیں گے
اے معنی ء گل لیکن
… جب موسمِ گل آیا
معصوم شگوفوں کی
معصوم اداؤں نے
مجبور بنا ڈالا
ہر بار ُرلا ڈالا
hai dua yaad magar haraf e dua yaad nahi
mere naghmaat ko andaz e nawa yaad nahi

hum ne jin ke liye rahoon main bichaaya tha lahoo
hum se kehte hain wohi ehd e wafa yaad nahi

zundagi jabr e musalsal ki tarah kaati hai
jane kis juram paye hai saza yaad nahi

main ne palkoon se dar e yaar pe dastak di hai
main woh saayal hoon jise koi sada yaad nahi

kaise bhar aayi sar e shaam kisi ki aankhain
kaise tharaayi charaghoon ki zaya yaad nahi

sirf dhundlaate sitare ki chamak deekhi hai
kab hua, kaun hua mujh se juda yaad nahi

aao ik sajada karain aalam e madhoshi main
loog kehte hain ke saaghir ko khuda yaad nahi


facebook