PARVEEN SHAKIR

بہت یاد آنے لگے ہو
بچھڑنا تو ملنے سے بڑھ کے
تمہیں میرے نزدیک لانے لگا ہے
میں ہر وقت خود کو
تمہارے جواں بازوؤں میں پگھلتے ہُوئے دیکھتی ہوں
مرے ہونٹ اب تک
تمہاری محبت سے نم ہیں
تمہارا یہ کہنا غلط تو نہ تھا کہ
میرے لب تمہارے لبوں کے سبب سے ہی گلنار ہیں
تو خوش ہو
کہ اب تو میرے آئینے کا بھی کہنا یہی ہے
میں ہربار بالوں میں کنگھی ادھوری ہی کرپا رہی ہوں
تمہاری محبت بھری اُنگلیاں روک لیتی ہیں مجھ کو
میں اب مانتی جا رہی ہوں
میرے اندر کی ساری رُتیں
اور باہر کے موسم
تمہارے سبب سے
تمہارے لیے تھے
جواباً
خزاں مجھ میں چاہو گے تم دیکھنا
یا کہ فصلِ بہاراں
کوئی فیصلہ ہو
مگر جلدکر دو تو اچھا
پھر آئینہ دیکھنے لگی میں

اُس کی طرح اپنا نام لے کر
خود کو بھی لگی نئی نئی میں

تُو میرے بِنا نہ رہ سکا تو
کب تیرے بغیر جی سکی میں

آتی رہے اب کہیں سے آواز
اب تو تیرے پاس آ گئی میں

دامن تھا تیرا کہ میرا ماتھا
جو داغ بھی تھے مٹا چکی میں
ہم نے تو بس ہوا کے تعلق سے با ت کی

ہر صبح جب کہ صبحِ قیامت کی طرح آئے
ایسے میں کون ہو گا جو سوچے ثبات کی

تکلیف تو ہُوئی مگر اے ناخنِ ملال
کُھلنے لگی گرہ بھی کوئی اپنی ذات کی

زنجیر ہے، جزیرہ ہے یا شاخِ بے ثمر
اب کون سی لکیر سلامت ہے، ہات کی

مرنے اگر نہ پائی تو زندہ بھی کب رہی
تنہا کٹی وہ عمر جو تھی تیرے سات کی

پھر بھی نہ میرا قافلہ لٹنے سے بچ سکا
میں نے خبر تو رکھی تھی ایک ایک گھات کی
ایک بار اکیلے میں اس سے بات ہو جائے

دل کی گنگ سرشاری اُس کو جیت لے لیکن
عرضِ حال کرنے میں احتیاط ہو جائے

ایسا کیوں کہ جانے سے صرف ایک انساں کے
ساری زندگانی ہی بے ثبات ہو جائے

یاد کرتا جائے دل اور کِھلتا جائے دِل
اوس کی طرح کوئی پات پات ہو جائے

سب چراغ گُل کر کے اُس کا ہاتھ تھاما تھا
کیا قصُور اس کا جو بَن میں رات ہو جائے

ایک بار کھیلے تو وہ میری طرح اور پھر
جیت لے وہ ہر بازی مجھ کو مات ہو جائے

رات ہو پڑاؤ کی پھر بھی جاگیئے ورنہ
آپ سوتے رہ جائیں اور ہات ہو جائے
اندھیرا کیسے بتائیں کہ اب تو شب بھی نہیں

میں اپنے زعم میں اِک بازیافت پر خوش ہوں
یہ واقعہ ہے کہ مجھ کو ملا وہ اب بھی نہیں

جو میرے شعر میں مجھ سے زیادہ بولتا ہے
مَیں اُس کی بزم میں اِک حرفِ زیرلبِ بھی نہیں

اور اب تو زندگی کرنے کے سو طریقے ہیں
ہم اس کے ہجر میں تنہا رہے تھے جب بھی نہیں

کمال شخص تھا جس نے مجھے تباہ کیا
خلاف اُس کے یہ دل ہو سکا ہے اب بھی نہیں

یہ دستکیں یہ میری زندگی کی آدھی رات
ہوا کا شور سمجھ لوں تو کچھ عجب بھی نہیں

یہ دُکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

حسابِ در بدری تجھ سے مانگ سکتا ہے
غریبِ شہر مگر اتنا بے ادب بھی نہیں

ہمیں بہت ہے یہ ساداتِ عشق کی نسبت
کہ یہ قبیلہ کوئی ایسا کم نسب بھی نہیں
پھیلا دیے خود ہاتھ طلب گار کے آگے
دیکھا نہیں کچھ ہم نے خریدار کے آگے

پھر شام ہوئی اور بڑھا ناخنِ اُمیّد
پھر صبح ہے اور ہم اُسی دیوار کے آگے

شہزادے! میری نیند کو تو کاٹ چکا ہے
ٹھہرا نہ یہ جنگل تیری تلوار کے آگے

کیا جاں کے خسارے کی تمنا ہو کہ اب عشق
بڑھتا ہی نہیں درہم و دینار کے آگے

وہ ایڑ لگی رخشِ زمانہ کو کہ اب تو
اسوار سراسیمہ ہے رہوار کے آگے

پھر روزئہ مریم جو فقیہوں میں ہے مقبول
عاجز تھے بہت وہ میری گفتار کے آگے

انکار کی لذّت میں جو سرشار رہے ہیں
کب ٹوٹ سکے ہیں رسن و دار کے آگے

یاقوس رکھے یا وہ ہمیں دائرہ کر دے
نقطے کی طرح ہیں کسی پرکار کے آگے

جاں اپنی ہے اور آبرو نسلوں کی کمائی
سر کون بچاتا پھرے دستار کے آگے

گھمسان کا رن جیت کے لب بستہ کھڑی ہوں
میں پُشت سے آئے ہُوئے اک وار کے آگے
ذہن میں نہیں

بس اِتنا یاد ہے

کہ دو ہتھیلیاں ملی ہُوئی تھیں

جن میں ایک میری تھی
اور اِک تمھاری
رات کی گم گشتگی جیسے بدن پر سج گئی

جاچکے موسم کی خوشبو ، صورتِ تحریرِ گل

یاد کے ملبوس کی اک اک شِکن پر سج گئی

میں تو شبنم تھی ہتھیلی پر ترے گُم ہوگئی

وہ ستارہ تھی سو تیرے پیرہن پر سج گئی

کُچھ تو شہرِ درد کا احوال آنکھوں نے کہا

اور کچھ گلیوں کی سفاکی تھکن پر سج گئی
وہ عجب دنیا کہ سب خنجر بکف پھرتے ہیں۔۔اور

کانچ کے پیالوں میں صندل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

بارشِ سنگِ ملامت میں بھی وہ ہمراہ ہے

میں بھی بھیگوں،خود بھی پاگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

لڑکیوں کے دُکھ عجب ہوتے ہیں،سُکھ اُس سے عجیب

ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

بارشیں جاڑے کی اور تنہا بہت میرا کساں

جسم کا اکلوتا کمبل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
وہ اپنی ذات کے ہر رنگ میں ہَوا ہی لگا

میں ایسے شخص کی معصومیت پہ کیا لکھوں

جو مجھکو اپنی خطاؤں میں بھی بھلا ہی لگا

زباں سے چُپ ہے مگر آنکھ بات کرتی ہے

نظراُٹھائی ہے جب بھی تو بولتا ہی لگا

نہ میرے لُطف پہ حیراں نہ اپنی اُلجھن پر

مُجھے یہ شخص تو ہر شخص سے جُدا ہی لگا
جنس نایاب ہوگئی شاید

اپنے گھر کی طرح وہ لڑکی بھی
نذرِ سیلاب ہوگئی شاید

تجھ کو سوچوں تو روشنی دیکھوں
یاد ، مہتاب ہوگئی شاید

ایک مدت سے آنکھ روئی نہیں
جھیل پایاب ہوگئی شاید

ہجر کے پانیوں میں عشق کی ناؤ
کہیں غرقاب ہوگئی شاید

چند لوگوں کی دسترس میں ہے
زیست کم خواب ہوگئی شاید
کوئی صورت ہو کہ برسات کٹے

خوشبوئیں مجھ کو قلم کرتی گئیں

شاخ در شاخ مرے ہات کٹے

موجہ گُل ہے کہ تلوار کوئی

درمیاں سے ہی مناجات کٹے

حرف کیوں اپنے گنوائیں جاکر

بات سے پہلے جہاں بات کٹے

چاند! آ مِل کے منائیں یہ شب

آج کی رات ترے سات کٹے

پُورے انسانوں میں گُھس آئے ہیں

سر کٹے ، جسم کٹے ، ذات کٹے
میں پذیرائی کے آداب سے واقف ہوں
مگر
اب کے برس ، میرے گھر
یا تو برسات آئے ،
یا مری تنہائی
وہ جا چکا ہے
مگر جُدائی سے قبل کا
ایک نرم لمحہ
ٹھہرگیا ہے
میری ہتھیلی کی پشت پر
زندگی میں
پہلی کا چاند بن کر
اُس کو آئینے ہمیں زعمِ ہنر میں رہنا

گھاس کی طرح جہاں بُھوک اُگا کرتی ہو
اِتنا آسان نہیں شاخِ ثمر میں رہنا

چاند کی آخری راتوں میں بہت لازم ہے
ایک مٹّی کا دیا راہگزر میں رہنا

طائرِ جاں کے گزرنے سے بڑا سانحہ ہے
شوقِ پرواز کا ٹوٹے ہُوئے پَر میں رہنا

کوئی سیف ہو کہ مِیرؔ ہو کہ پروینؔ اُسے
راس آتا ہی نہیں چاند نگر میں رہنا

دو گھڑی میّسر ہو اس کا ہم سفر رہنا
پھر ہمیں گوارا ہے اپنا دربدر ہونا

اِک عذابِ پیہم ہے ایسے دورِ وحشت میں
زندگی کے چہرے پر اپنا چشمِ تر ہونا

اب تو اُس کے چہرے میں بے پناہ چہرے ہیں
کیا عجیب نعمت تھی ورنہ بے خبر ہونا

ہر نگاہ کا پتّھر اور میرے بام و در
شہرِ بے فصیلاں میں، کیا ستم ہے، گھر ہونا

سوچ کے پرندوں کو اِک پناہ دینا ہے
دھوپ کی حکومت میں ذہن کا شجر ہونا

اُس کے وصل کی ساعت ہم پہ آئی تو جانا
کس گھڑی کو کہتے ہیں خواب میں بسر ہونا
رات کی گم گشتگی جیسے بدن پر سج گئی

جاچکے موسم کی خوشبو ، صورتِ تحریرِ گل
یاد کے ملبوس کی اک اک شِکن پر سج گئی

میں تو شبنم تھی ہتھیلی پر ترے گُم ہوگئی
وہ ستارہ تھی سو تیرے پیرہن پر سج گئی

کُچھ تو شہرِ درد کا احوال آنکھوں نے کہا
اور کچھ گلیوں کی سفاکی تھکن پر سج گئی
تری جُدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے

ترے بدلنے کے باوصف تجھ کو چاہا ہے
یہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے

اب دے گا تو پھر مجھ کو خواب بھی دے گا
میں مطمئن ہوں ،مرادل تری پناہ میں ہے

مرچُکا ہے مگر مُسکراکے ملتا ہے
وہ رکھ رکھاؤ ابھی میرے کجکلاہ میں ہے

جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے
وہ اِک مکا ن ابھی تک مکیں کی چاہ میں ہے

یہی وہ دن تھے جب اِ ک دوسرے کو پایا تھا
ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے

میں بچ بھی جاؤں تو تنہائی مارڈالے گی
مرے قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے
چشمِ صدف سے گوہرِ نایاب لے گیا

اِس شہرِ خوش جمال کو کِس کی لگی ہے آہ
کِس دل زدہ کا گریہ خوننا ب لے گیا

کُچھ نا خدا کے فیض سے ساحل بھی دُور تھا
کُچھ قسمتوں کے پھیر میں گرداب لے گیا

واں شہر ڈُوبتے ہیں، یہاں بحث کہ اُنھیں
خُم لے گیا ہے یا خمِ محراب لے گیا

کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں
شاید اُنھیں بہا کے کوئی خواب لے گیا

طوفان اَبروباد میں سب گیت کھوگئے
جھونکا ہَوا کا ہاتھ سے مِضراب لے گیا

غیروں کی دشمنی نے نہ مارا،مگر ہمیں
اپنوں کے التفات کا زہر اب لے گیا

اے آنکھ!اب تو خواب کی دُنیا سے لوٹ آ
’’مژگاں تو کھول!شہر کو سیلاب لے گی
یہ جو دفعتاً اُدھر سے

گلُ مہر کی شاخ کو ہٹاکر

اُبھرا ہے اُفق پہ چاند میرا

اس چاند کا حُسن تو وہی ہے
کیسی کیسی دُعاؤں کے ہوتے ہُوئے بد دُعا لگ گئی

ایک بازو بریدہ شکستہ بدن قوم کے باب میں
زندگی کا یقیں کس کو تھا ، بس یہ کہیے ، دوا لگ گئی

جُھوٹ کے شہر میں آئینہ کیا لگا ، سنگ اُٹھائے ہُوئے
آئینہ ساز کی کھوج میں جیسے خلقِ خُدا لگ گئی

جنگلوں کے سفر میں توآسیب سے بچ گئی تھی ، مگر
شہر والوں میں آتے ہی پیچھے یہ کیسی بلا لگ گئی

نیم تاریک تنہائی میں سُرخ پُھولوں کا بن کِھل اُٹھا
ہجر کی زرد دیوار پر تیری تصویر کیا لگ گئی

وہ جو پہلے گئے تھے ، ہمیں اُن کی فرقت ہی کچھ کم نہ تھی
جان ! کیا تجھ کو بھی شہرِ نا مہرباں کی ہوا لگ گئی

دوقدم چل کے ہی چھاؤں کی آرزو سر اُٹھانے لگی
میرے دل کو بھی شاید ترے حوصلوں کی ادا لگ گئی

میز سے جانے والوں کی تصویر کب ہٹ سکی تھی مگر ،
درد بھی جب تھما ، آنکھ بھی جب ذرا لگ گئی

facebook