کیا جاتا ہے پانی میں سفر آہستہ آہستہ

کوئی بھی زنجیر پھر واپس وہیں پر لے کے آتی ہے
کٹھن ہو راہ تو چُھٹتا ہے گھر آہستہ آہستہ

بدل دینا ہے رستہ یا کہیں پر بیٹھ جانا ہے
کہ تھکتا جا رہا ہے ہم سفر آہستہ آہستہ

خلش کے ساتھ اِس دل سے نہ میری جاں نکل جائے
کھنچے تیرِ شناسائی مگر آہستہ آہستہ

ہَوا سے سرکشی میں پھول کا اپنا زیاں دیکھا
سو جُھکتا جا رہا ہے اب یہ سر آہستہ آہستہ
اب آئے چارہ ساز کہ جب زہر کِھل چُکا

جب سوزنِ ہوا میں پرویا ہو تارِ خوں

اے چشمِ انتظار ! ترا زخم سِل چُکا

آنکھوں پہ آج چاند نے افشاں چُنی تو کیا

تارہ سا ایک خواب تو مٹی میں مِل چُکا

آئے ہوائے زرد کہ طوفان برف کا

مٹّی کی گود کرکے ہری ، پُھول کھِل چُکا

بارش نے ریشے ریشے میں رَس بھردیا ہے اور

خوش ہے کہ یوں حسابِ کرم ہائے گِل چُکا

چُھوکر ہی آئیں منزلِ اُمید ہاتھ سے

کیا راستے سے لَوٹنا ، جب پاؤں چِھل چُکا

اُس وقت بھی خاموش رہی چشم پوش رات

جب آخری رفیق بھی دُشمن سے مِل چُکا
پھر آئینہ دیکھنے لگی میں

اُس کی طرح اپنا نام لے کر
خود کو بھی لگی نئی نئی میں

تُو میرے بِنا نہ رہ سکا تو
کب تیرے بغیر جی سکی میں

آتی رہے اب کہیں سے آواز
اب تو تیرے پاس آ گئی میں

دامن تھا تیرا کہ میرا ماتھا
جو داغ بھی تھے مٹا چکی میں
چاندنی،
اُس دریچے کو چُھوکر
مرے نیم روشن جھروکے میں آئے ، نہ آئے
مگر
میری پلکوں کی تقدیر سے نیند چُنتی رہے
اور اُس آنکھ کے خواب بُنتی رہے!
نظر اُٹھی مرے جذبوں کی ترجماں بن کر

وہ سحر تھا کہ کوئی سازاس کی قربت کا

کہ نغمہ خواں ہوئی دھڑکن بھی داستاں بن کر

میں اس میں روئے بہاراں تلاشتی ہی رہی

جو صحنِ دل کو بھسم کر گیا خزاں بن کر

میں جس شجر سے بھی رنگِ حیات پانے گئی

شکارِ برقِ پتاں ہو گیا دھواں بن کر

شدید چاہ ہے سائے میں اپنے بیٹھ رہوں

پر اگلے پل یہ ملے گا عذابِ جاں بن کر

یہ بندشوں کے نگر میں سخن دری کا جنوں

ہیں گفتگو میں تخیل مری زباں بن کر
ہم اس موسم میں تجھ سے مل چکے تھے

توجہ سے تیری پھر کُھل رہے تھے
وگرنہ زخم تو یہ سِل چکے تھے

ستون کتنا سہارا ان کو دیتے
جو گھر بُنیاد سے ہی ہِل چکے تھے

پُرانی اجنبیت لوٹ آئی
ہم اُن سے اور وہ ہم سے مل چکے تھے

تر و تازہ تھی جاں راہِ جنوں میں
اگرچہ پاؤں اپنے چھل چکے تھے
میرے ہاتھوں کی لکیروں سے اُلجھ جاتی ہیں
اے مجھے جاگتا پاتی ہُوئی رات

وہ مری نیند سے بہلا کہ نہیں!

بھیڑ میں کھویا ہُوا بچہ تھا

اُس نے خود کو ابھی ڈھونڈا کہ نہیں!

مجھ کو تکمیل سمجھنے والا

اپنے معیار میں بدلا کہ نہیں!

گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے

دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیں!

بند کمرے میں کبھی میری طرح

شام کے وقت وہ رویا کہ نہیں!

میری خوداری برتنے والے!

تیر اپندار بھی ٹوٹا کہ نہیں!

الودع ثبت ہُوئی تھی جس پر

اب بھی روشن ہے وہ ماتھا کہ نہیں!
تیرے کوچے میں گئے اور لوگ سمجھانے لگے

عکسِ بے منظر سے دل تسکیں سی پانے لگے
دُھوپ میں جیسے کوئی آئینہ چمکانے لگے

باغ اور ابرِ بہار اور رات اور خوشبوئے دوست
ایک خواہش سو طرح کے رنگ دکھلانے لگے

اتنی خاموشی بھی گرد و پیش میں طاری نہ ہو
دل دھڑکنے کی صدا کانوں میں صاف آنے لگے

زرد ہوتا جا رہا ہے صحنِ دل کا ہر شجر
جس طرح اندر ہی اندر دُکھ کوئی کھانے لگے

تیری دُنیا سے نِکل جاؤں میں خاموشی کے ساتھ
قبل اس کے تُو میرے سائے سے کترانے لگے

پیش آثارِ قدیمہ رُک گئے میرے قدم
شہر کے دیوار و در کچھ جانے پہچانے لگے
خود کو خوشبو میں سمو کر دیکھوں

اُس کو بینائی کے اندر دیکھوں

عمر بھر دیکھوں کہ پل بھر دیکھوں

کس کی نیندوں کے چُرا لائی رنگ

موجہ زُلف کو چُھوکر دیکھوں

زرد برگد کے اکیلے پن میں

اپنی تنہائی کے منظر دیکھوں

موت کا ذائقہ لکھنے کے لیے
چند لمحوں کو ذرا مَر دیکھوں
سوا ہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا
تجھے بھی ذوق نئے تجربات کا ہو گا
ہمیں بھی شوق تھا کُچھ بخت آزمائی کا
Adab ki baat hai warna Muneer socho tou
Jo shakhs sunta hai wo bol bhi tou sakta hai
بڑے شوق سے انہیں پتٌھروں کو شکم سے باندھ کر سو رہوں
مُجھے مال مُفت حرام ہے ۔۔ ۔۔ ۔۔ مُجھے دے تو رزق حلال سے
Urdu Text Poetry



زندگی کے کهیل میں رشتوں کو پیچهے چهوڑ کر
کتنے تنہا ہو گئے ہم . سب سے آگے دوڑ کر .
Urdu Text Poetry


ک وہم سا کیوں لاحق ہے
وہ بھی مجھ بن اداس ہوگا.....!!
Urdu Text Poetry



داغ سینے میں جو ہمارے ہیں
گل کھلاۓ ہوۓ تمہارے ہیں
Urdu Text Poetry



اﺱ کی ﮐﺎﻟﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ہیں ﺟﻨﺘﺮ ﻣﻨﺘﺮ ﺳﺐ

ﭼﺎﻗﻮ ﻭﺍﻗﻮ، ﭼﮭﺮﯾﺎﮞ ﻭُﺭﯾﺎﮞ، ﺧﻨﺠﺮ ﻭﻧﺠﺮ ﺳﺐ

ﺟﺲ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺭﻭﭨﮭﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ، ﺭﻭﭨﮭﮯ ﺭﻭﭨﮭﮯ ہیں

ﭼﺎﺩﺭ ﻭﺍﺩﺭ، ﺗﮑﯿﮧ ﻭﮐﯿﮧ، ﺑﺴﺘﺮ ﻭِﺳﺘﺮ ﺳﺐ

ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍ کے ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﺍﺏ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﯿﺴﯽ ہے

پھیکے پڑ گئے کپڑے ﻭﭘﮍﮮ، ﺯﯾﻮﺭ ﺷﯿﻮﺭ ﺳﺐ

ﺁﺧﺮ ﮐﺲ ﺩﻥ ﮈﻭﺑﻮﮞ ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﻓﮑﺮﯾﮟ ﮐﺮﺗﮯہیں

ﺩﺭﯾﺎ ﻭﺭﯾﺎ، ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺷﺘﯽ، ﻟﻨﮕﺮ ﻭﻧﮕﺮ ﺳﺐ
Urdu Text Poetry



ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ
ﻃﺮﺡ ﮨﻢ ﻧﮯ
ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﭘﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﮨﻢ ﻧﮯ
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮭﺎﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﺮﯾﮟ
ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﯿﺪﺍ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ
ﺭﺍﺗﯿﮟ
ﮐﺐ ﻣﻠﺘﺎ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ، ﮬﻢ ﺳﮯ ﺗﮭﯽ
ﻣﻼﻗﺎﺗﯿﮟ
ﺭﻧﮓ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺷﮩﺎﺑﯽ ﺗﮭﺎ ، ﺯﻟﻔﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺗﮭﯽ ﻣﮩﮑﺎﺭﯾﮟ
ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺟﺎﺩﻭ ﺗﮭﺎ، ﭘﻠﮑﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ
ﮐﮧ ﺗﻠﻮﺍﺭﯾﮟ
ﺩﺷﻤﻦ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﺳﻮ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ
ﺩﻝ ﮨﺎﺭﮮ
ﮐﭽﮫ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺷﺒﺎﮨﺖ ﺗﮭﯽ
ﮨﺎﮞ ﺗﻢ ﺳﺎ ﮨﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺷﻮﺧﯽ ﻣﯿﮟ
ﺷﺮﺍﺭﺕ ﻣﯿﮟ
ﻟﮕﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﻤﮩﯽ ﺳﺎ ﺗﮭﺎ ﺩﺳﺘﻮ ﺭ ﻣﺤﺒﺖ
ﻣﯿﮟ
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﮎ ﺩﻥ
ﻏﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﻮﻻ
ﺗﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮈﻭﺑﺎ
ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭨﻮﭨﺎ
ﭘﮭﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﻭﮦ، ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﮈﮬﻮﻧﮉﺍ
ﺗﻢ ﮐﺲ ﻟﯿﮯ ﭼﻮﻧﮑﮯ ﮨﻮ، ﮐﺐ ﺫﮐﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ
ﮨﮯ
ﮐﺐ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﮨﮯ
ﮐﺐ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮨﮯ
ﺍﮎ ﺗﺎﺯﮦ ﺣﮑﺎﯾﺖ ﮨﮯ، ﺳﻦ ﻟﻮ ﺗﻮ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﮨﮯ
Urdu text Poetry



غم نے ترے نچوڑ لیا قطرہ قطرہ خون
تھوڑا سا درد دل میں کھٹکنے کو رہ گیا
Uedu Text poetry




محبت عام سا اک واقعہ تھا

ہمارے ساتھ پیش آنے سے پہلے


facebook